گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ قیامت میں ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے


علامہ ابن جوزی لکھتے ہیں کہ ایک عبادت گزار شخص کو ایک لڑکی سے عشق ہو گیا۔ ان کے عشق کا پورے شہر میں چرچا ہو گیا۔ ایک دن لڑکی نے کہا کہ اللہ کی قسم میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔ لڑکے نے کہا کہ اللہ کی قسم میں بھی تم سے محبت کرتا ہوں۔ لڑکی نے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ اپنا منھ تمھارے منھ پر رکھوں۔ اس نے بھی کہا کہ میں بھی یہی چاہتا ہوں۔ لڑکی نے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ اپنا سینہ تمھارے سینے سے لگاؤں اور اپنا پیٹ تمھارے پیٹ سے لگاؤں۔ اس نے کہا کہ میں بھی یہی چاہتا ہوں۔


لڑکی نے کہا کہ پھر تمھیں کس نے روکا ہے؟ اللہ کی قسم یہی تو محبت کا موقع ہے تو اس نے جواب دیا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ (67:43)

اس (قیامت کے) دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔


پھر وہ کہنے لگا کہ میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ تمھاری اور میری دوستی قیامت کے دن دشمنی میں بدل جائے۔ لڑکی نے کہا کہ ہمارا رب ہماری توبہ قبول کر لے گا لہذا ہم توبہ کر لیں گے۔ اس نے کہا کہ کیوں نہیں لیکن مجھے اس کا اطمینان نہیں ہے کہ مجھے اچانک موت نہ آ جائے۔

پھر وہ اٹھا اور اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور پھر دوبارہ کبھی اس لڑکی کے پاس نہ گیا اور اپنی عبادت میں مصروف ہو گیا۔


(ذم الھوی لابن جوزی ملخصاً)


نوجوانو! اگر تمھیں کسی سے پیار ہوا ہے اور تمھارا پیار سچا ہے تو کیا تم یہ پسند کرو گے کہ چند دنوں کی دنیا کے بعد قیامت میں تمھارا محبوب تمھارا دشمن ہو جائے؟ کیا یہ اچھا ہوگا کہ آج تم اسے حاصل کر لو لیکن ہمیشہ کے لیے کھو دو؟ نہیں ہرگز نہیں!


ایک سچا عاشق تو یہ چاہے گا کہ میں اپنے محبوب کو ہمیشہ کے لیے حاصل کر لوں اور اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تقوی کو نہ چھوڑا جائے اور گناہوں سے بچا جائے۔ آپ کو جس سے محبت ہوئی ہے اس سے نکاح کر لیجیے، یہی سب سے بہترین حل ہے۔ اس سے آپ کو یہاں بھی فائدہ ہوگا کہ آپ کا محبوب آپ کی نظروں کے سامنے ہوگا اور آپ کا تقوی بھی سلامت رہے گا اور وہاں بھی آپ اپنے محبوب کو محبوب ہی پائیں گے نہ کہ دشمن!


اگر نکاح نہ ہو پائے تو کوئی ایسا کام نہ کریں جو آپ کے محبوب کو آپ سے ہمیشہ کے لیے دور کر دے۔ اگر آپ نے اپنا دامن گناہوں سے خالی رکھا تو یقین جانیے کہ اللہ تعالی ہر شے پر قادر ہے، وہ آپ کے دامن کو آپ کی مرادوں سے بھر دے گا۔


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post