میری بیٹی کی شادی ہے


آئے دن مسجدوں میں، سڑکوں پر اور گلی کوچوں میں ایسے لوگ دیکھنے کو ملتے ہیں جو اپنی بیٹی یا اپنی بہن کی شادی کے لیے پیسے مانگ رہے ہوتے ہیں۔ یہ کیا ڈرامہ ہے؟ مطلب حد ہو گئی ہے۔ لڑکے والے تو بے شرم ہیں ہی کہ جہیز کے لیے مجبور کرتے ہیں لیکن لڑکی والوں کو بھی شرم نہیں آتی۔


اب یہ مت پوچھیے گا کہ لڑکی والے بے شرم کیسے ہوئے؟

اگر کوئی اچھا پڑھا لکھا، سمجھدار اور دین دار لڑکا ملتا ہے جو جہیز نہیں مانگتا تو ان لڑکی والوں کو اور لڑکی کو پسند ہی نہیں آتا اوپر سے عجیب عجیب باتیں نکالتے ہیں کہ لگتا ہے لڑکے میں کچھ کمی ہے! 

اگر کوئی شادی شدہ لڑکا دوسری شادی کے لیے ان غریب لڑکی والوں سے "صرف لڑکی" مانگتا ہے تو ایسا کرتے ہیں جیسے لڑکی قتل کرنے کے لیے مانگی ہو! 


بھیک مانگ کر ایسے لڑکے سے شادی کریں گے جو داڑھی منڈاتا ہو، فلمیں دیکھتا ہو، پینٹ شرٹ پہنتا ہو اور ایک لاکھ ساتھ میں گاڑی کا مطالبہ بھی کرے لیکن ایسے لڑکے کو نہیں دیں گے جو داڑھی رکھتا ہو اور دین دار ہو کیوں کہ اس کا قصور یہ ہے کہ اس نے ایک شادی کر رکھی ہے۔ دوسری شادی کو ایک جرم سمجھا جاتا ہے اور پھر دھوم دھام کی تو بات ہی مت کیجیے، چاہے گھر میں کھانے کو نہ ہو لیکن دھوم دھام سے شادی ضرور کریں گے تاکہ ناک نہ کٹ جائے۔


قرضہ لے کر اور بھیک مانگ کر سیکڑوں لوگوں کو کھانا کھلانا کہاں لکھا ہے؟ کیا بنا دعوت کے شادی نہیں ہو سکتی؟ کیا بغیر باجے، بغیر لائٹ، بغیر ٹینٹ اور بغیر مہنگے کپڑوں کے نکاح نہیں ہو سکتا؟ پھر کیوں یہ ڈرامہ بنا رکھا ہے؟ 


شادی کو آسان کیجیے، دوسری شادی کو عام کیجیے تاکہ یہ بھیک مانگنے کا ڈرامہ بند ہو۔ لڑکی والوں کو آگے بڑھنا ہوگا اور اگر کوئی ایسا لڑکا ملے جو دین دار ہو اگرچہ شادی شدہ ہو تو اسے اپنی لڑکی دینے میں سوچیے مت کیوں کہ یہ کوئی جرم نہیں ہے یا کوئی غلط بات نہیں ہے۔ اگر چار شادیاں عام ہو جائیں تو شادیاں خود بہ خود آسان ہو جائیں گی۔


لڑکوں کو بھی چاہیے کہ اپنی سوچ کو بدلیں اور لڑکی والوں سے پیسے، گاڑی وغیرہ کا مطالبہ کرنے کے بجائے یہ ڈیمانڈ رکھیں کہ آپ کو اور آپ کی لڑکی کو میری دوسری، تیسری بلکہ چوتھی شادی سے کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے تب ہی یہ شادی ہوگی۔ اس سے آپ کے لیے دوسری شادی کا راستہ آسان ہوگا اور شادیاں آسان ہو جائیں گی۔ کسی باپ کو اپنی بیٹیوں کے لیے بھیک نہیں مانگنی ہوگی، کسی بھائی کو چندہ اکٹھا نہیں کرنا پڑے گا بلکہ ایک مرد چار عورتوں کا شوہر ہوگا اور وہ کسی چار غریب باپ کی بیٹی یا چار غریب بھائیوں کی بہن ہوگی۔


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post