مرنے والا پہلا کافر 


ماہ رجب سَنَہ 2ھ میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالی عنہ کو امیر لشکر بنا کر ان کی ماتحتی میں آٹھ یا بارہ مہاجرین کا ایک جُتھ روانہ فرمایا، دو دو آدمی ایک ایک اونٹ پر سوار تھے۔ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالی عنہ کو لفافہ میں ایک مہر بند خط دیا اور فرمایا کہ دو دن سفر کرنے کے بعد اس لفافہ کو کھول کر پڑھنا اور اس میں جو ہدایات لکھی ہوئی ہیں ان پر عمل کرنا۔ جب خط کھول کر پڑھا تو اس میں یہ درج تھا کہ تم طائف اور مکہ کے درمیان مقام ''نخلہ'' میں ٹھہر کر قریش کے قافلوں پر نظر رکھو اور صورت حال کی ہمیں برابر خبر دیتے رہو۔ یہ بڑا ہی خطر ناک کام تھا کیوں کہ دشمنوں کے عین مرکز میں قیام کر کے جاسوسی کرنا گویا موت کے منھ میں جانا تھا مگر یہ سب جاں نثار بے دھڑک مقام ''نخلہ'' پہنچ گئے۔


عجیب اتفاق ہے کہ رجب کی آخری تاریخ کو یہ لوگ نخلہ میں پہنچے اور اسی دن کفار قریش کا ایک تجارتی قافلہ آیا جس میں عمرو بن الحضرمی اور عبداللہ بن مغیرہ کے دو لڑکے عثمان ونوفل اور حکم بن کیسان وغیرہ تھے اور اونٹوں پر کھجور اور دوسرا مال تجارت لداہوا تھا۔


حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ اگر ہم ان قافلہ والوں کو چھوڑ دیں تو یہ لوگ مکہ پہنچ کر ہم لوگوں کی یہاں موجودگی سے مکہ والوں کو باخبر کردیں گے اور ہم لوگوں کو قتل یا گرفتار کرا دیں گے اور اگر ہم ان لوگوں سے جنگ کریں تو آج رجب کی آخری تاریخ ہے لہذا شہر حرام (حرمت کے مہینے) میں جنگ کرنے کا گناہ ہم پر لازم ہو گا۔ آخر یہی رائے قرار پائی کہ ان لوگوں سے جنگ کر کے اپنی جان کے خطرہ کو دفع کرنا چاہیے۔


چناں چہ حضرت واقد بن عبداللہ تمیمی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک ایسا تاک کر تیر مارا کہ وہ عمرو بن الحضرمی کولگا اور وہ اسی تیر سے قتل ہو گیا اور عثمان وحکم کو ان لوگوں نے گرفتا ر کر لیا، نوفل بھاگ نکلا۔ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالی عنہ اونٹوں اور ان پر لدے ہوئے مال و اسباب کو مال غنیمت بنا کر مدینہ لوٹ آئے اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں اس مال غنیمت کا پانچواں حصہ پیش کیا۔ (زرقانی علی المواہب، ج1، ص398)


جو لوگ قتل یا گرفتار ہوئے وہ بہت ہی معزز خاندان کے لوگ تھے۔ عمرو بن الحضرمی جو قتل ہوا عبداللہ حضرمی کابیٹا تھا۔ عمرو بن الحضرمی پہلا کافر تھا جو مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا گیا۔ جو لوگ گرفتار ہوئے یعنی عثمان اور حکم، ان میں سے عثمان تو مغیرہ کا پوتا تھا جو قریش کا ایک بہت بڑا رئیس شمار کیا جاتا تھا اور حکم بن کیسان ہشام بن المغیرہ کا آزاد کردہ غلام تھا۔ اس بنا پر اس واقعہ نے تمام کفار قریش کو غیظ و غضب میں آگ بگولہ بنا دیا اور ''خون کابدلہ خون'' لینے کا نعرہ مکہ کے ہر کوچہ و بازار میں گونجنے لگا اور در حقیقت جنگ بدر کا معرکہ اسی واقعہ کا رد عمل ہے۔ چناں چہ حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ جنگ بدر اور تمام لڑائیاں جو کفار قریش سے ہوئیں ان سب کا بنیادی سبب عمرو بن الحضرمی کا قتل ہے جس کو حضرت واقد بن عبداللہ تمیمی رضی اللہ تعالی عنہ نے تیر مار کر قتل کردیا تھا۔ (تاریخ طبری ص1284)


(سیرت‌مصطفی، ص208، 209)


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post