عمر دا پہلا نمبر

پاکستان کے ایک مقرر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لیے "علی دا پہلا نمبر" کہنا اگر غلط ہے تو پھر اعلی حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ پر بھی فتوی لگایا جائے کیونکہ انہوں نے حضرت علی کی 18 اولیات کا ذکر کیا ہے یعنی جن میں علی دا پہلا نمبر ہے۔

ہم کہتے ہیں کہ پھر اس میں حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ہی کیا تخصیص؟ آپ صرف 18 اولیات کی بات کر رہے ہیں جب کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی 50 کے قریب اولیات کتابوں میں موجود ہے اور پھر اسی طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی اولیات بھی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب کہ ہم عمر دا پہلا نمبر یا عثمان دا پہلا نمبر کے نعرہ لگانا شروع کر دیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ یہ علی دا پہلا نمبر کا نعرہ کس تناظر میں لگایا جاتا ہے پھر اس کی راہ نکالنے کا کیا مطلب سمجھا جائے؟

بات ہے خلافت کی تو پھر یہاں یہی صحیح ہے کہ علی دا پہلا نمبر نہیں بلکہ چوتھا نمبر ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں فتنوں سے محفوظ رکھے۔

عبد مصطفی آفیشل

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post