کیا چھت پھاڑ کر معراج کے لیے سفر ہوا؟ 


بحرالعلوم حضرت علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی رحمۃ اللہ سے سوال کیا گیا کہ زید کہتا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی تو آپ امّ ہانی کے گھر میں تشریف فرما تھے اور آپ چھت پھاڑ کر عرش معلیٰ پر گئے دروازے سے نہیں اس لیے زنجیر ہلنے کی کوئی ضرورت نہیں اور یہ زنجیر کے ہلنے والی بات صحیح نہیں اور اللہ تعالٰی سے 90 باتیں ہوئی جن میں سے 60 آپ نے بیان کی اور 30 چھپا لی۔

آپ جواب میں لکھتے ہیں کہ:

حدیث میں جبرئیل امین کے بارے میں تو یہ ہے کہ جب وہ معراج کے لئے آئے تو دروازے سے نہیں بلکہ چھت کو پھاڑ کر آئے لیکن حضور اسی پھٹی ہوئی چھت سے عرش پر گئے یہ بات روایت میں نہیں بلکہ زید کی اٹکل پچو ہے۔

ملّا علی قاری نے مرقاۃ میں اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے لمعات میں لکھا ہے کہ روایتوں میں اس موقع پر کئی الفاظ آئے ہیں کسی میں ہے کہ میں حطیم میں سو رہا تھا اور بعض میں ہے کہ بیت اللہ کے پاس تھا اور بعض میں ہے کہ میرے گھر کی چھت کھلی اور میں مکہ میں تھا اور بعض میں ہے کہ شعب ابی طالب سے معراج ہوئی اور بعض میں ہے امّ ہانی کے گھر سے، ان سب روایتوں میں تطبیق یہ ہے کہ یہ سب جگہیں قریب ہی ہیں، 

آپ امّ ہانی کے گھر تھے گھر کی چھت کھلی اور اس سے فرشتہ اترا پھر وہ مجھے بیت اللہ شریف میں لے آیا۔

دیکھیے یہاں صاف تحریر ہے کہ گھر میں سے کعبہ شریف کے پاس لائے تو گھر کی چھت پھاڑ کے آنے کی کیا ضرورت تھی زید کسی روایت میں یہ نہیں دکھا سکتا کہ حضور چھت پھاڑ کر عرش معلیٰ کے لیے گئے۔

آج لوگ دین و مذہب سے دور ہو گئے ہیں، بے پڑھے لکھے لوگ دینی معاملات میں دخل دینے لگے ہیں خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔

(فتاویٰ بحر العلوم، ج5، ص181 182)


عبد مصطفیٰ آفیشل

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post