پیار کیا پھر صبر کیا اور پھر حضرت علی نے شادی کروا دی

حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ایک باندی تھی اور ایک مؤذن بھی تھا جو رحبہ میں رہتا تھا اور صبح اندھیرے میں اذان دیتا تھا اور یہ باندی نہر سے پانی لینے جایا کرتی تھی اور جب اس مؤذن کے پاس سے گزر ہوتا تو یہ کہتا کہ اے فلانی! اللہ کی قسم میں تم سے محبت کرتا ہوں!

جب یہ اس نے کئی دفع کیا تو باندی نے حضرت علی کو یہ بات بتا دی حضرت علی نے کہا کہ اب کی بار جب وہ تمھیں ایسا کہے تو تم بھی کہنا کہ ہاں میں بھی تم سے محبت کرتی ہوں، اب کیا چاہتے ہو؟ اس باندی نے ایسا ہی کہا تو اس مؤذن نے کہا کہ اب ہم صبر کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ نہ فرما دے اور بیشک وہی بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے، 

یہ بات باندی نے حضرت علی کو بتائی تو آپ نے اس مؤذن کو بلوایا اور اسے خوش آمدید کر کے اپنے پاس بٹھایا اور پوچھا کہ کیا تمھیں فلانی سے محبت ہے؟

اس نے عرض کیا : ہاں امیر المومنین!

آپ نے پوچھا کہ کیا کسی اور کو بھی علم ہے؟

عرض کیا : اللہ کی قسم اور کسی کو اس کا علم نہیں پھر آپ نے باندی اسے دے کے فرمایا کہ اسے لے جاؤ اور یہ اللہ ہی کے حکم سے ہے اور اللہ بہتر حکم کرتا ہے۔

(ذم الھوی لابن جوزی)

پیار کے ماروں پر ہمارے اکابرین ترس کھاتے آئے ہیں، ان پہ رحم کرنے کا درس ہمیں صحابہ کے عمل سے ملتا ہے اور جب کوئی شرعی وجہ نہ ہو تو پیار کرنے والوں کو ملا دینا ہی اچھا ہے۔

آج کل پہلے تو ضروری ہے کہ خود اس سے بچیں اور اپنی اولاد کو بچائیں لیکن جیسا کہ ظاہر ہے، یہ ایسا عام ہو گیا ہے کہ بچے سے بڑے، ہر ایک کی کوئی نا کوئی کہانی ہے تو اس میں ضروری ہے کہ ان کی مدد کی جائے اور وہ اس طرح کہ انھیں رشتے میں باندھ دیا جائے ورنہ فتنہ سر اٹھائے گا۔ 

عشق مجازی کی تباہ کاریوں پہ بات کریں، ضروری ہے پر ایک طرفہ ہی بات کرنا اور جو اس میں پڑ چکے ہیں انہیں کوئی راہ نہ دکھانا یہ صحیح نہیں ہوگا ورنہ وہ خود اپنی راہیں بنا لیں گے جو شاید مزید تباہ کاریوں کا سبب بن جائے۔

عبد مصطفی آفیشل

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post