ایک عاشق کو بچا کے انسانیت کو بچا لیا 


مکہ میں ایک تاجر تھا جو غلاموں اور لونڈیوں کی تجارت کرتا تھا (جیسا کہ پہلے رواج تھا غلام بیچنے خریدنے کا)

اس کے پاس ایک خوبصورت لڑکی تھی جس کے حسن کی بڑی تعریف ہوتی تھی، یہ تاجر اس کو حج کے موسم میں سامنے لاتا تھا اور لوگ اسے دیکھ کر اس کے لیے بڑی قیمت دینے کو تیار ہو جاتے مگر یہ اس کو فروخت نہیں کرتا تھا اور بہت زیادہ قیمت مانگتا تھا اسی درمیان ایک جوان لڑکا جو عبادت گزار تھا اس نے بھی اس لڑکی کی نمائش ہوتے ہوئے ایک بار دیکھ لیا اور وہ اس کے دل میں اتر گئی۔


اب یہ اسے دیکھنے آیا کرتا اور دیکھ کر لوٹ جاتا، 

پھر اس لڑکی کو پردہ کروا دیا گیا تو یہ بہت غمگین اور سخت بیمار ہو گیا اور اس کا جسم پگھلنے لگا چنانچہ یہ لوگوں سے الگ تھلگ رہنے لگا اور اس کی یہ مصیبت حج کے موسم تک چلتی یعنی سال بھر اس حال میں رہتا پھر اسے نمائش والے دنوں میں دیکھ کہ تھوڑا سکون پاتا۔


یہ جوان اسی طرح کافی دبلا پتلا ہوگیا اور پگھلتا رہا تو اس سے حضرت موسیٰ مکی رحمہ اللہ تعالیٰ نے وجہ پوچھی تو اس نے پہلے منع کیا پھر بتا دیا تو آپ نے اس پے ترس کھایا کہ یہ بیچارا کتنی بڑی مصیبت میں پھنس کر کس حالت کو پہنچ گیا ہے تو میں اس لڑکی کے مالک کے پاس گیا اور اس سے بات چیت کرتا رہا یہاں تک کہ اس نوجوان کی تکلیف کا اظہار کر دیا اور اب جو اس کی حالت تھی وہ بھی بتائی اور وہ اس وقت موت کی حالت کو پہنچ چکا تھا۔


اس تاجر نے کہا کہ میرے ساتھ چلیں تاکہ میں اسے دیکھ سکوں پھر ہم دونوں اس کے پاس آئے، 

جب تاجر نے اس کی حالت دیکھی تو رہا نہ گیا اور پھر حکم دیا کہ لڑکی کو سنگھار کے ساتھ تیار کیا جائے پھر وہ اسے بازار میں لے گیا اور کہا اے لوگوں! گواہ ہو جاؤ میں نے یہ لونڈی اس نوجوان کو ہدیہ میں دیا اس کے عوض جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے،

پھر اس نوجوان سے کہا کہ اسے میری طرف سے ہدیہ قبول کرو اور ساتھ میں اس نے جو زیور وغیرہ پہنے ہیں وہ سب بھی۔


لوگوں نے کہا کہ تمہیں اتنا زیادہ مال پیش کیا جا رہا تھا اس لڑکی کے لیے اور تم نے اسے ایسے ہی ہدیہ کر دی! 

اس تاجر نے کہا کہ اس نوجوان (جس کی موت کا اندیشہ تھا) کو یہ لڑکی دے کر میں نے (اس کی جان) بچا کے تمام روئے زمین کے لوگوں کو زندگی دی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:


ومن احیاھا فکانما احیاالناس جمیعا

(المائدۃ:32)


جس نے کسی ایک نفس کی زندگی بچائی اس نے تمام انسانوں کی زندگی بچائی۔


(ذم الھوی لابن جوزی رحمہ اللہ تعالی،

ملخصا)


آپ چاہے جس طرح ان معاملات کو دیکھتے ہوں پر یہ بات سچ ہے کہ جب کوئی دل کے ہاتھوں مجبور ہوتا ہے تو پھر سمجھنے سمجھانے والی باتیں بہت کم رہ جاتی ہیں، 

ایسے میں ہمارے اکابرین نے ایسے غم کے ماروں پہ ترس کھا کر اُنھیں زندگی دینے کی کوشش کی ہے لہٰذا آج بھی ضرورت ہے کہ ایسے معاملات میں حالات کے ماروں پر رحم کرے تاکہ کسی کی جان پر نہ بن آئے۔


عبد مصطفیٰ آفیشل

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post