نقش نعلین پہ نام


نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نعیلن کی مثل ایک نقشہ بنایا جاتا ہے جس پر نام بھی لکھا جاتا ہے اور عربی اشعار حتی کہ قرآنی آیت بھی لکھی جاتی ہیں۔

اس پر کچھ لوگوں کا اعتراض ہوتا ہے کہ یہ درست نہیں بلکہ بے ادبی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔


فیض ملت، حضرت علامہ فیض احمد اویسی رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں کہ :


(نقش نعلین پر آیت لکھنا) جائز ہے، امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں کہ بسم اللہ شریف اس پر لکھنے میں کچھ حرج نہیں اگر یہ خیال کیجیے کہ نعلِ مقدس قطعاً تاج فرق اہلِ ایمان ہے مگر اللہ عزوجل کا نام و کلام ہر شے سے اجل و اعظم و ارفع و اعلی ہے یوں ہی نقشۂ نعل اقدس میں بھی احتراز چاہیے تو یہ قیاس مع الفارق ہے، اگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کی جاتی کہ نام الہی یا بسم اللہ شریف حضور کی نعل پر لکھی جائے تو پسند نہ فرماتے مگر اس قدر ضروری ہے کہ نعل بحالت استعمال و تمثال محفوظ عن الابتذال میں تفاوت بدیہی ہے اور اعمال کا مدار نیت پر ہے۔

امیر المومنین فاروق اعظم نے جانورانِ صدقہ کی رانوں پر اللہ کا نام داغ فرمایا تھا حالانکہ ان کی رانیں بہت محل بے احتیاطی ہیں بلکہ سنن دارمی ہے :


سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما کے پاس بیٹھا اور (تحصیل علم کے لیے فکری علمی باتیں) رجسٹر پر لکھتا، جب وہ ختم ہو جاتا تو پھر میں اپنے دونوں جوتی کے تلووں پر لکھتا۔

(فتاوی اویسیہ، ج1، ص104، 105)


عبد مصطفی آفیشل

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post