جھوٹے طبیب متوجہ ہوں!!!


حدیث پاک:

جو تکلفاً علاج کرے اور اسے علم طب نہ آتا ہو تو وہ ضامن ہے۔


نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کی وضاحت یہ ہے کہ جس نے طب کے اصول و ضوابط نہ پڑھے ہوں اور وہ لوگوں کے سامنے خود کو طبیب ظاہر کر کے علاج کرے اور اس کے علاج سے کوئی مر جائے یا مریض کو کسی قسم کا نقصان پہنچے تو وہ جعلی طبیب دیت کا ضامن ہے۔


خواہ انسان ہو یا جانور علاج ہر جاندار کی ضرورت ہے چونکہ انسان مخلوقات میں افضل ہے اسی لیے اس کی عزت اور تکریم کی اہمیت بھی اتنی ہی زیادہ بیان کی گئی ہے اور انسانی جان کی صحت اور اس کی حفاظت کے لیے ضروری اقدام کرنے کو زیادہ اہم قرار دیا ہے۔ انسانی صحت کے حفاظت کے لیے علاج کی سہولت ہونے کے ساتھ معالج کا ماہر ہونا بھی نہایت ضروری ہے۔


"مال و دولت کی لالچ" بھی ایسا کرنے پر ابھارتی ہے بالخصوص وہ پس ماندہ یا ترقی پذیر علاقے جہاں اسپتال کی سہولت موجود نہیں یا بہت دور دور ہے تو ایسی صورت میں اس طرح کے مقامات سونے کی چڑیا ثابت ہوتے ہیں، ایسے لوگ ان مقامات پر اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے کئی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں۔

(ابن ماجہ، 4 حدیث، 3466)


بعض افراد کو ہر کام میں کودنے اور مفت کے مشورے دینے کا شوق ہوتا ہے ایسے لوگ اپنی عادت سے مجبور ہو کر ہر بیماری کا علاج بتاتے پھرتے ہیں اور اس طریقۂ علاج کو اپنانے پر اصرار بھی کرتے ہیں کبھی کبھی تو ایسے ٹوٹکے بھی بتاتے ہیں جو مرض بھگانے کے بجائے اس کی شدت بڑھا دیتا ہے اور ان کے مشورے کے غلط ہونے کا اندازہ وقت گزرنے کے بعد ہوتا ہے ایسے مشیر تدبیر کے تجویز کردہ علاج سے وہی نجات پا سکتا ہے جس کی عقل حاضر اور زندہ ہو۔

(اسعاف الحاجۃ، 579، تحت الحدیث، 3466)


بعض لوگ مریض سے بغض و کینہ کی وجہ سے اسے غلط دوائیاں بتا دیتے ہیں اور دوائی کے الٹے اثرات دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔


بعض لوگوں کو انسانوں پر تجربے کرنے کا شوق ہوتا ہے اسی شوق کو وہ یوں پورا کرتے ہیں کہ طرح طرح کی دوائیوں کے فوائد و نقصانات جاننے کے لیے عام سیدھے سادے اور بھولے بھالے لوگوں پر تجربہ کرتے ہیں عموماً میڈیکل سٹور والوں سے لوگ بیماری بتا کر دوا طلب کرتے ہیں وہ بھی تجربے کے شوق میں ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر دوا دے دیتے ہیں جس کے نتائج تکلیف میں اضافے اور جان جانے جیسی بھیانک صورت میں نکلتے ہیں۔


جھوٹے طبیب دراصل بے رحمی انتقامی مزاج اور اس طرح کی کئی وجوہات کے پیداوار ہوتے ہیں لہٰذا ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام ہمیں رحم دلی کا حکم دیتا ہے۔

چنانچہ حدیث قدسی میں ہے: اگر تم میری رحمت چاہتے ہو تو میری مخلوق پر رحم کرو۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ پاک اپنے رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم فرماتا ہے۔

اسلام ہمیں بے حسی و بے رحمی سے بچاتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ پاک اس پر رحم نہیں فرماتا۔

(مسلم، ص975، حدیث 2318)


مریضوں پر رحم کا تقاضا یہ ہے کہ ہم کسی بھی طرح غلط علاج بتانے کے بجائے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیں، اس سلسلے میں مریض پر آنے والی مالی دشواریوں کو بھی حسب توفیق دور کرنے کی کوشش کرے اور یہ سب کرتے ہوئے ایسے الفاظ استعمال کرنے سے بچے جو مریض کو گھائل کر دیں بلکہ وہ لہجہ اختیار کریں جو اسے علاج کا قائل اور ڈاکٹر کی جانب مائل کر سکے ہمارا یہ رویہ جھوٹے طبیبوں میں کمی کا سبب بنے گا۔ انشاء اللہ

(ماخوذ، ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دعوتِ اسلامی) 


عبد مصطفیٰ 
دلبر راہی اصدقی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post